حیدرآباد، 4 ؍جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )ریاستی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین عابد رسول خان نے کہا کہ اگر یکساں سول کوڈ کے مسودے پرمناسب بحث ہوتی ہے اورمسائل کو حل کر دیا جاتا ہے تو مسلم کمیونٹی اس دفعہ کو قبول کر لے گی ۔یہ دونوں ریاست آندھرا پردیش اور تلنگانہ کا مشترکہ کمیشن ہے۔خان نے میڈیاکے ساتھ بات چیت میں کہا کہ اگر حکومت یکساں سول کوڈ کے معاملے پر سنجیدہ ہے تو پہلے وہ اسے عوامی طور پر رکھے تاکہ اس پر بحث کی جا سکے۔ملک کی متنوع ثقافت کا خاکہ پیش کرتے ہوئے خان نے کہا کہ ہر کمیونٹی میں مذہب سب سے زیادہ اہم عنصر ہے، چاہے وہ ہندو ہو، مسلمان ہو، سکھ ہو یا دیگرکمیونٹی ہو۔انہوں نے کہاکہ ہم اپنے ووٹ، کھان پان سے متعلق زندگی سمیت ہر چیز مذہب کے حساب سے کرتے ہیں۔جب اس طرح کا معاملہ ہوتو حکومت کوانتہائی احتیاط سے قدم رکھنا چاہیے۔یہ ذکر کرتے ہوئے کہ اس طرح کی دفعہ پر کسی ٹھوس نتائج کے بغیر سالوں سے بحث ہوتی رہی ہے، خان نے کہا کہ نہ تو مسودہ پالیسی کو عوامی طور پر رکھا گیا ہے اور نہ ہی یکساں سول کوڈ پر کسی شکل میں بحث ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکومت سنجیدہ ہے اور اس پر مناسب بحث ہوتی ہے اور مسائل کوحل کر دیا جاتا ہے نیز مسلمانوں کے تمام طبقات سے رائے لی جاتی ہے تو مجھے لگتا ہے کہ میری کمیونٹی کے زیادہ ترلوگ اس پراعتراض نہیں کریں گے۔